آئیوا ووٹنگ سے قبل آخری ریپبلکن مباحثے میں ٹرمپ غیر حاضر

نیویارک (افروایشیاء نیوزمانیٹرنگ ڈیسک +وی او اے) ربپلیکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے صف اول کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیوا میں رائے شماری سے پہلے ریپبلکن پارٹی کے آخری مباحثے میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے ایک علیحدہ تقریب منعقد کی جس میں انہوں نے سابق فوجیوں کے لیے ساٹھ لاکھ ڈالر چندہ اکٹھا کیا۔

ٹرمپ نے مباحثے میں آنے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کیونکہ مباحثہ منعقد کرانے والے چینل فوکس نیوز نے ان کی طرف سے مباحثے کی ایک میزبان میگن کیلی کو ہٹانے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا اور اس معاملے پر ایک طنزیہ خبر بھی چلائی تھی۔ میگن کیلی نے اگست میں ہونے والے مباحثے میں ٹرمپ سے عورتوں کے بارے میں ان کے حقارت آمیز بیانات کے بارے میں سوال کیا جس پر وہ ناراض ہو گئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مباحثے میں شرکت کی بجائے آئیوا کے شہر ڈے موئن میں سابق فوجیوں کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی تقریب منعقد کی اور اس کا انہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر فائدہ بھی ہوا۔

ڈے موئن میں ہونے والے مباحثے کے دوران تمام امیدواروں میں ٹرمپ کا نام گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کیا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر نظر رکھنے والی کمپنی برینڈ واچ کے مطابق ٹوئیٹر پر بھی تمام امیدواروں میں سے سب سے زیادہ لگ بھگ 130,000 بار ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کیا گیا۔

جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رپبلیکن امیدواروں نے ان کا رائے شماری سے پہلے آخری مباحثے کا بائیکاٹ کرنے کا مذاق اڑایا۔

ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز نے مباحثے کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایک طنزیہ جملے سے کیا جو اپنے حریفوں کو اکثر تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ انہیں نے کہا کہ ’’میں ایک جنونی ہوں اور اس سٹیج پر موجود باقی سب بیوقوف، موٹے اور بھدے ہیں۔‘‘

فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش نے کہا کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ مجھے یاد آ رہے ہیں۔ وہ میرے لیے ٹیڈی بیئر کی طرح ہیں۔‘‘

ٹرمپ کی غیر موجودگی کے باعث مباحثے میں بیشتر توجہ ٹیڈ کروز اور فلوریڈا سے سینیٹر مارکو روبیو پر رہی۔

دونوں امیدواروں نے رپبلیکن پارٹی کے سب سے متنازع موضوعات میں شامل امیگریشن کے موضوع پر طویل بحث کی۔ دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکہ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو قانونی حیثیت دینے کے بارے میں کئی مرتبہ اپنا مؤقف تبدیل کیا ہے۔

مباحثے میں ریٹائرڈ سرجن بین کارسن، کینٹکی کے سینیٹر رینڈ پال اور نیوجرسی کے گورنر کرس کرسٹی بھی شریک تھے۔

تمام امیدواروں نے اپنے آپ کو صدارتی عہدے کے لیے بہترین انتخاب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ ملک کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ واضح نہیں کی ڈونلڈ ٹرمپ کے مباحثے میں شرکت نہ کرنے سے آئیوا میں ان کی حمایت پر کیا اثر پڑے گا مگر ان کی غیر موجودگی سے ان کے حریفوں کو اپنا موقف بیان کرنے کا زیادہ وقت ضرور ملا۔






Comments are Closed