ایران کے ساتھ جنگ چھڑ سکتی ہے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

واشنگٹن: 

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ آئندہ 10، 15 سال میں ایران کے ساتھ جنگ چھڑ جانے کا امکان ہے۔

امریکی اخبار ’ٹائمز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ امریکا کو شام سے اپنے فوجی دستے واپس بلانے کے بجائے عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایران پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ ڈالنا چاہیئے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کیا جا سکے بصورت دیگر اس بات کا قوی امکان پیدا ہو چکا ہے کہ آئندہ 10 سے 15 برسوں میں ایران کے ساتھ جنگ چھڑ جائے گی۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ خطے میں ایران کے کردار کو محدود رکھنے کے لیے اس پر سخت پابندیاں عائد کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ شام کے علاوہ ایران حوثی باغیوں کو بھی سپورٹ کر رہا ہے جس کی وجہ سے  یمن میں بحران اور جنگ کی کیفیت پیدا ہوئی ہے اگر 2015 میں سعودیہ یمن میں مداخلت نہیں کرتا تو آج یمن حوثی باغیوں اور القاعدہ کے درمیان تقسیم ہوچکا ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ بشار الااسد کی معزولی کا کوئی امکان نہیں ہے اور نہ ہی انہیں ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ ایک مضبوط صدر ہیں لیکن انہیں بھی چاہیے کہ وہ ایران کی کٹھ پتلی نہ بنیں اور اپنے فیصلے خود کریں تاہم مجھے نہیں لگتا کہ وہ خود کو تہران سے الگ کر پائیں گے اور یہی مسائل کی اصل جڑ ہے۔

واضح رہے اس وقت 2 ہزار امریکی فوجی دستے  شام میں موجود ہیں اور اپنے حالیہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے اپنے فوجی دستے واپس بلانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ یہ فوجی دستے شام کے علاقے رقہ میں جمہوری قوتوں کی مدد کر رہے تھے جب کہ حکومت کے خلاف برسرپیکار داعش جنگجوؤں کے رقہ پر قابض ہونے کے بعد ان سے برسرپیکار بھی رہے تھے۔ تاہم حکومت اور اتحادی فوجوں نے رقہ کا کنٹرول واپس حاصل کرلیا تھا جس کے بعد امریکی دستوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔






Comments are Closed