Main Menu

ایڈیلیڈ میں ناپسندیدہ ریکارڈ پاکستانی ٹیم کا منتظر

آج سے شروع ہونے والے ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں گرین کیپس کو ایک منفی ریکارڈ سے بھی خود کو محفوظ رکھنا ہوگا، برسبین کے بعد گرین کیپس کو یہاں بھی شکست ہوئی تو کسی ایک ملک میں سب سے زیادہ مسلسل14 ٹیسٹ ہارنے والی ٹیم بن جائیں گے،اس سے قبل بنگلہ دیش نے 2001سے 2004کے دوران اپنے ہی ملک میں مسلسل 13میچز میں ناکامی کا منہ دیکھا تھا۔
ایڈیلیڈ میں پاکستان نے پہلا میچ 1972میں کھیلا، مہمان ٹیم کو اننگز اور 114رنز سے مات ہوئی،گرین کیپس پہلی اننگز میں 257 پر آؤٹ ہوئے،ڈینس للی اور رابرٹ میسائی نے 4، 4 شکار کیے۔ آسٹریلیا نے ای این چیپل کے 196رنز کی بدولت 585رنز بنائے،پاکستان ٹیم دوسری اننگز میں 214 پر آؤٹ ہوگئی،میلٹ نے 8شکار کیے۔
1976 میں گرین کیپس نے ظہیر عباس کے85 رنزکی بدولت 272 کا مجموعہ پایا، میزبان نے والٹرز اور ڈیوس کی سنچریوں سے تقویت پاتے ہوئے454رنز اسکور کیے، مہمان ٹیم آصف اقبال اور ظہیر عباس کی تھری فیگر اننگز کی بدولت 466 رنز جوڑنے میں کامیاب ہوئی،کینگروز نے دوسری اننگز میں 6وکٹ پر 261رنز بنائے اور میچ ڈرا ہوگیا۔
1983میں تیسرا معرکہ بھی نتیجہ خیز نہ ہوا، آسٹریلیا نے کیپلر ویسلزاور ایلن بارڈر کی سنچریوں سے تقویت پاتے ہوئے 465کا مجموعہ حاصل کیا،عظیم حفیظ نے 5شکار کیے۔ پاکستان نے محسن خان (149)، جاوید میانداد(131) اورقاسم عمر(113) کی مدد سے 624کا پہاڑ کھڑا کیا، ڈینس للی نے 6وکٹیں لیں، کینگروز نے دوسری اننگز میں 7وکٹ پر 310رنز بنائے۔
1990 میں پاکستان نے جاویدمیانداد اور وسیم اکرم کی ففٹیز کی بدولت 257رنز بنائے،ریکمین نے 4شکار کیے، آسٹریلیا نے جونز کی سنچری کی بدولت341رنز جوڑے، وسیم اکرم نے 5وکٹیں حاصل کیں،مہمان ٹیم نے دوسری اننگز 9وکٹ پر 387رنز بناکر ڈیکلیئرڈ کردی،عمران خان (136)اور وسیم اکرم(123)رنز کے ساتھ نمایاں رہے، آسٹریلیا نے جواب میں6وکٹ پر 233رنز بنائے اور میچ ڈرا ہوگیا،اس میں جونز کی سنچری شامل رہی






Leave a Reply