دل خون کے آنسو روتا ہے؛ مسلماں بے خبر سوتا ہے

مسلمان اس وقت خواب غفلت میں سو رہے ہیں اور کفار ہیں کہ مسلمانوں کا قتلِ عام کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ سزائیں کہنے والے، اسلامی تعلیمات پر انگلیاں اٹھانے والے، مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے ایک ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتل عام کرنے کےلیے انسانیت کے تمام اصولوں کو نظر انداز کرتے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کےلیے دنیا کے قوانین الگ کیوں؟ اور غیر مسلموں کےلیے دنیا کے قانون کے انداز اور کیوں؟ کیوں مسلمانوں کو اتنا حقیر سمجھا جا رہا ہے؟

غیر مسلم اپنے آپ کو دنیا میں مہذب ثابت کرنے کےلیے مختلف تنظیمیں بنا رہے ہیں۔ تحفظ جانور، تحفظ نسواں، بچوں کا تحفظ، خلاء اور زمین پر بے جان چیزوں کے تحفظ کی تنظیمیں ہیں؛ اس کے علاوہ دیگر تمام مخلوقات کے تحفظ کےلیے مختلف تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ مگر دنیا کو اخلاقیات کا سبق دینے والی تمام اقوام کے سامنے جب بھی مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کی بات آتی ہیں تو سب ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔ مسلمان اور مسلمانوں کے بچوں کو ایسے قتل کیا جار ہا ہے جیسے یہ دنیا کی کوئی مخلوق ہی نہ ہوں۔ مسلمانوں کے بچوں کے جسموں کو بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے، زندہ جلایا جا رہا ہے۔ بے یارو مدد گار مسلمانوں کو اللہ تعالی کے سوا کوئی اپنا مدد گار نظر نہیں آرہا۔ مگر اللہ تعالی نے بھی فرمایا ہے کہ کسی بھی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک اس قوم کو اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو۔

شام کے مسلمانوں اور بچوں کے قتل عام پر مسلمان ممالک کی خاموشی مسلمانوں کی بزدلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جنگیں بھی اصولوں پر لڑی جاتی ہیں، مگر مسلمانوں کے خلاف جب بھی کوئی جنگ کی جاتی ہے تمام اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ کفار کو معلوم ہے کہ ہم مسلمانوں کو جیسے بھی قتل کریں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کبھی برما میں مسلمانوں کو زندہ جلایا جاتا ہے تو کبھی شام میں۔ فلسطین، کشمیر، عراق، افغانستان، ہندو ستان میں مسلمانوں کو ایک منصوبے کے تحت بے رحمی سے قتل کیا جارہا ہے۔ آخر کب تک مسلمان اسی طرح دجالی و طاغوتی قوتوں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہیں گے؟ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ مسلمانوں کے اندر ایمان کی کمزوری یا دنیا کے مال کی محبت؟ مسلمانوں کے اندر غیرت ایمانی کی کمزوری ہے یا پھر فرقہ واریت کی انتہا؟ اس کی وجہ جو بھی ہو تمام مسلمانوں کو ایک امت بن کر یکجا ہونا ہو گا۔ تب ہی ہم مسلمان ان طاغوتی و دجالی طاقتوں کا رستہ روک سکتے ہیں۔

اگر ہمارے یہی حالات رہے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو نہیں بچا سکیں گے۔ کیونکہ اس وقت غیر مسلموں نے ایک پلان کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی شروع کر دی ہے۔ غیر مسلم مسلمانوں کے کچھ ذر خرید علماء کو ساتھ ملا کراسلامی تعلیمات کو بدل کر ماڈرن اسلام کا نام دے کر مسلمان بچوں کے دلوں سے اسلام کی اصلی تعلیمات کو ختم کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جن مسلم ممالک میں دنیا کی سپر پاورز کی بات نہیں مانی جاتی ان کو انتہا پسند یا دہشت گرد قرار دے کر ان پر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے اور اس جنگ میں چھوٹے بچوں اور خواتین سے لے کر بلاامتیاز کارپٹ بم باری کر کے قتل عام کیا جاتا ہے، اور اس طرح تمام غیر مسلم مل کر مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں اور اس جنگ کو امن جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ جن ممالک کو طاقتور مسلمان ممالک سمجھا جاتا ہے، ان مسلم ممالک میں فرقہ واریت کی ایسی آگ لگائی جاتی ہے جس سے ان مسلم ممالک کے بچوں، عورتوں، نو جوانوں سے لے کر بوڑھوں تک کو فرقہ واریت کی آگ میں جلا دیا جاتا ہے۔ ان ممالک کو مزید کمزور کرنے کےلیے ان پر اقتصادی و معاشی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔

شام میں فرقہ واریت کی ایسی آگ لگائی گئی ہے جس نے پورے شام کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ شام کی آنے والی نسلوں کو سرِعام قتل کیا جا رہا ہے اور جو بچ رہے ہیں وہ معذور ہو رہے ہیں۔ معذور نسلیں کل آنے والے جدید دور کا مقابلہ کیسے کر سکیں گی؟ یہ نسلیں اپنے وجود کو کل دینا میں کیسے قائم رکھ سکیں گی؟

مسلمانو! ہوش کے ناخن لو۔ اسلام وہ دین ہے جس نے دنیا کو بلا تفریق امن و محبت کا درس دیا ہے اور غیر مسلموں کے مال و جان، عزت نفس اور ان کی عبادت گاہوں کو بھی تحفظ دیا ہے۔ اسلام کی اخلاقی خوبیوں کی وجہ سے ہر مذہب اور نسل کے لوگ اسلام میں داخل ہوتے رہے اور اسلام نے اپنے اخلاق اور حسن عمل سے پوری دنیا کو فتح کیا۔ مگر آج اسلام کی تھیوری کوتبدیل کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے۔

فرقہ واریت پھیلا کر اسلام کو ایک پر تشدد مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کا فائدہ اسلام دشمن طاقتیں اٹھا رہی ہیں۔ کون سا اسلامی ملک ہے جس میں فرقہ واریت کی آگ نہیں لگائی جا رہی۔ اسی فرقہ واریت کی آگ نے شام میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کی ایسی آہ و بکا ہے جس کو سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ بے یارو مدد گار لاشیں پڑی ہیں، بے گور و کفن مسلمانوں کو پھینکا جا رہا ہے۔ ہر طرف جسموں کے اعضاء بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ درندگی کا ایک ایسا بازار گرم ہے کہ جان، مال، عزتِ نفس کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس مہذب اور ترقی یافتہ دنیا سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ ملک شام کے اندر خون اتنا سستا کیوں ہے؟

مسلمان ممالک، دنیا کی سپر پاورز، انسانی حقوق کی ٹھیکیدار تنظیمیں سب اس معاملے پر اس لیے خاموش ہیں کیونکہ یہ خون مسلمانوں کا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے، جب اپنے ہی اپنوں کے حقوق کےلیے آواز بلند نہ کریں تو دوسروں کو تو ویسے ہی تماشا دیکھنا ہوتا ہے۔ مسلم ریاستوں کے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کےلیے آواز اٹھائیں اور اپنے اندر فرقہ واریت کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اگرآج ہو ش کے ناخن نہ لیے تو پھر طاغوتی و دجالی طاقتیں مسلم ممالک کو فناء و برباد کر دیں گی۔






Comments are Closed