Main Menu

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن خطرناک بیماری میں مبتلا ہوگئے، امریکی میڈیا

واشنگٹن: شمالی کوریا کے 36 سالہ سربراہ کم جونگ اُن شدید علیل ہونے کے باعث کئی دنوں سے منظر عام سے غائب ہیں اور حکومتی حکام بھی چپ سادھے ہوئے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور فوکس نیوز پر شمالی کوریا کے سربراہ کے شدید علیل ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، 36 سالہ کم جونگ اُن کئی دنوں سے منظر عام سے بھی غائب ہیں تاہم شمالی کوریا کی جانب سے امریکی میڈیا میں علالت کی خبروں کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے امریکی نشریاتی اداروں کو انٹیلی جنس حکام سے ایسی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن میں شمالی کوریا کے سربراہ کے دو ہفتوں سے خطرناک دماغی بیماری میں مبتلا ہوکر دماغی طور پر مفلوج ہو جانے کے شواہد دیئے گئے ہیں۔
شمالی کوریا کے سربراہ کی علالت کے حوالے سے خبروں کو تقویت اس وقت ملی جب کم جونگ اُن 15 اپریل کو اپنے والد سابق صدر شمالی کوریا کی برسی کی مناسبت سے 15 اپریل کو رکھی گئی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے اور زیادہ تر معاملات میں انہوں نے پہلے ہی اپنی بہن کے حوالے کردیئے تھے۔

شمالی کوریا کی 2 غیر معروف نیوز ویب سائٹس نے دعویٰ کیا کہ کم جون اُن کی طبیعت رواں ماہ کے آغاز ہی سے خراب ہوگئی تھی اور 12 اپریل کو ان کے دل کا آپریشن ہوا ہے۔ آپریشن کے بعد سربراہ شمالی کوریا کو پہاڑوں کے درمیان واقع ایک اور رہائش گاہ میں منتقل کردیا گیا تھا تاہم وہاں ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔

شمالی کوریا میں میڈیا کے آزاد نہ ہونے کے باعث تاحال سربراہ کم جونگ اُن کے شدید بیمار ہونے سے متعلق کوئی خبر نشر نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ان خبروں کو غلط ثابت کرنے کے لیے سربراہ مملکت کی سرکاری مصروفیات دکھائی گئی ہیں بلکہ آج ایک پرانا بیان چلایا گیا ہے جس کے بعد سے چہ مہ گوئیوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لگتا کم جونگ اُن اتنے علیل ہوں گے تاہم امریکی صدر کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائیزر رابرٹ او برین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متضاد اطلاعات نے اس معاملے کو مزید پُراسرار بنا دیا ہے، ہم اس صورت حال پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ سربراہ شمالی کوریا کے والد بھی 2008 میں اچانک علیل ہونے کے بعد 2011 میں دل کے عارضے کے باعث ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد کم جونگ اُن نے اپنے والد کی جگہ محض 26 سال کی عمر میں ملک کی سربراہی سنبھالی تھی۔






Comments are Closed