Main Menu

لبنانی حکومت مظاہروں کے سامنے نہ ٹھہر سکی، وزیر اعظم مستعفی

بیروت: لبنان کے دارالحکومت میں قیامت خیز دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور مظاہروں کے بعد وزیر اعظم حسن دیاب سمیت لبنان کی پوری کابینہ مستعفی ہوگئی ۔

پیر کو اپنی کابینہ کے بیش تر افراد کے مستعفی ہونے کے بعد قوم سے مختصر خطاب میں وزیر اعظم لبنان حسن دیاب نے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیروت کا دھماکا کرپشن کا نتیجہ تھا۔

حسن دیاب نے کہا کہ وہ تبدیلی کی جنگ میں عوام کا ساتھ دینے کے لیے اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ بدعنوانی ریاست سے زیادہ بڑی ہوچکی ہے ہم نے اس کا مقابلہ وقار کے ساتھ کرنے کی کوشش کی۔ انہیں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض حلقے ان کی حکومت کی اصلاح کے لیے کاوشوں میں رکاوٹٰیں حائل کرتے رہے۔

گزشتہ منگل دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکے کے بعد لبنان میں حکومت مخالف مظاہرہے پھوٹ پڑے تھے اور کئی مقامات پر مظاہرین نے سرکاری املاک پر دھاوا بول دیا تھا۔ احتجاج کے دوران مختلف وزارتوں کے دفاتر پر بھی مظاہرین نے قبضہ جمائے رکھا۔ مظاہرے شروع ہونے کے بعد لبنانی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہورہا تھا اور وزیر اعظم پہلے ہی قبل از وقت انتخابات کا اعلان کردیا تھا۔






Comments are Closed