مبینہ چینی ہیکرز کا امریکی وفاقی ادارے پر بڑا سائبر حملہ

نیویارک (افروایشیاء نیوز مانیٹرنگ ڈیسک+ وائس آف امریکہ+ بی بی سی) امریکہ میں حکام نے کہا ہے کہ مبینہ طور پر چین کے ہیکروں نے لاکھوں سرکاری ملازمین کی معلومات اور ان کی سکیورٹی کلیئرنس جاری کرنے والی وفاقی ایجنسی پر بڑا سائبر حملہ کیا ہے۔

آفس آف پرسنل منیجمنٹ “او پی ایم” کا کہنا ہے کہ اس حملے سے تقریباً 40 لاکھ موجودہ اور سابق ملازمین متاثر ہو سکتے ہیں اور چونکہ فی الوقت تحقیقات جاری ہیں اس لیے یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے عہدیداروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انھیں شبہ ہے کہ اس حملے کے پیچھے چینی ہیکروں کا ہاتھ ہے۔

واشنگٹن میں چین کے سفارتخانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ “نتائج اخذ کرنا اور فرضی الزامات لگانا غیر ذمہ دارانہ اور بے سود ہو گا۔”

او پی ایم کا کہنا تھا کہ اس بارے میں اپریل کو معلوم ہوا تھا اور ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کا محکمہ نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے تحقیقات کرتے آرہے ہیں۔

مزید برآں تمام موجودہ اور سابق وفاقی ملازمین کو ان کی چوری شدہ معلومات سے متعلق مطلع کر دیا جائے گا۔

او پی ایم پر سائبر حملہ سب سے بڑا سائبر حملہ ہو سکتا ہے لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ہیکرز وفاقی حکومت کے کمپیوٹر سسٹمز تک پہنچے ہوں۔






Comments are Closed