Main Menu

مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس، صورت حال پر غور

نیویارک: پاکستان اور بھارت کے درمیان 70 سال سے زائد دیرینہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

گزشتہ برس اگست 2019 کے بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا منعقد ہونے والا یہ تیسرا اہم اجلاس ہے جس کے لیے پاکستان نے دوست ملک چین کے ساتھ مسلسل کوششیں کیں اور یہ اجلاس عمل میں آیا۔

اجلاس کا انعقاد اقوامِ متحدہ کے تحت ڈپارٹمنٹ آف پیس آپریشنز اور پولیٹکل اینڈ پیس بلڈنگ افیئرز کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں 15 ممالک کے نمائیندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کا انعقاد مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے اور عالمی برادری بھی اسے ایک اہم بین الاقوامی تنازعہ سمجھتی ہے۔ اجلاس کے بعد چین کے مستقل مندوب ژینگ جن نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں کشمیر کی زمینی صورتحال پر غور کیا گیا، کمشیر ہمیشہ سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے اور کشمیر پر چین کا مؤقف واضح ہے۔

روس کے مندوب دمتری پولیانسکی نے کہا کہ سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث آیا، روس پاک، بھارت تعلقات معمول پر لانے کا خواہشمند ہے، امید ہے دو طرفہ کوششوں سے پاکستان اور بھارت میں اختلافات دور ہو جائیں گے۔ اجلاس سے قبل بھی روسی مندوب نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش ہے۔

واضح رہے مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت شدید لاک ڈاؤن کا شکار ہے جہاں تحریرو تقریر پر پابندی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ بھی بند ہے اور درجنوں کشمیریوں کو بھارتی افواج نے شہید کیا ہے جب کہ بھارتی فوجیوں کے زیرِ حراست افراد کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔






Related News

Comments are Closed