Main Menu

ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 184 ہوگئی

خیبر پختون خوا اور سندھ میں نئے کیسز کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 184 ہوگئی۔

خیبر پختون خوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے اپنے ٹویٹ میں تصدیق کی ہے کہ تفتان سے ڈیرہ اسماعیل خان آنے والے 19 زائرین میں سے 15 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ متاثرین کو ڈی آئی خان میں قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 115 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 150 ہوگئی۔ نئے رپورٹ ہونے والے کیسز میں 4 کیس کراچی میں اور 58 کیس سکھر میں سامنے آئے۔ نئے کیسز کے بعد سکھر میں تعداد 119، کراچی میں 30 ہوگئی جب کہ ایک کیس حیدرآباد میں رپورٹ ہوا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کرونا کی روک تھام سے متعلق اقدامات کرنے کی غرض سے قائم نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ، فردوس عاشق اعوان، معید یوسف، نورالحق قادری اور وزیر داخلہ اعجاز شاہ شریک ہوئے۔

اجلاس میں کورونا وائرس کی صورتحال اور اس وائرس کی روک تھام کے حوالے سے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کاجائزہ لیا گیا اور فیصلوں کے نتیجے میں اب تک کیے جانے والے اقدامات اوردرپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، وزرائے اعلیٰ نے صوبائی سطح پر کرونا وائرس کی صورتحال اور اس کی روک تھام کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کرونا وائرس کے مسئلے کی سنجیدگی کا مکمل ادراک ہے اور اس ضمن میں حکومتی سطح پر ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو اس مسئلے کی سنجیدگی کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔

وزیراعظم عمران خان کی ہدایات

وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کے منفی اثرات سے ملکی معیشت کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھنا ہے، معاشی سرگرمیوں کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنانا اور خصوصاً عام آدمی کے لئے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم نے ہدایت دی کہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے تین کم خرچ نسخے

مائع وائپس

بے بی وائپس صرف نومولود بچوں کو ہی نہیں آپ کو بھی کئی جراثیم سے بچاسکتی ہیں۔ میڈیکل اسٹور سے ایسے وائپس خریدیں جن میں الکحل کی شرح 60 فیصد ہو اور اگر نہ مل سکے تو اسی نوعیت والے الکحل مائع کو ہاتھوں پر رگڑ کر بے بی وائپس سے صاف کردیں۔

یہ بھی پڑھیں : کورونا وائرس سے متعلق صوبوں کی صورتحال اور حکومتی اقدامات

جب بھی عوامی اجتماع، بس، یا ریلوے سے گھر آئیں تو فوری طور پر بے بی وائپس سے ہاتھ اور بازوؤں کو اچھی طرح صاف کرلیں۔ اسی طرح اسمارٹ فون کو بھی وائپس سے صاف کرکے جراثیم اور وائرس سے پاک بنایا جاسکتا ہے۔

ڈس انفیکشن اسپرے

مارکیٹ میں ایسے جراثیم کش اسپرے موجود ہیں جنہیں کسی بھی سطح پر اسپرے کرکے اسے کورونا وائرس سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ چھینکنے کی صورت میں بار بار ہاتھ دھوئیں اور چہرہ بھی اچھی طرح دھونے کی عادت بنائیں۔ اسی طرح ہینڈ سینیٹائزر بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

الکحل والے پریپ پیڈز

طبی مقاصد کے لیے چھوٹے چھوٹے پریپ پیڈز استعمال ہوتے ہیں جن میں الکحل شامل ہوتا ہے۔ ان میں کلوروکس کمپنی کے ڈس انفیکشن وائپس مشہور ہیں۔ ان کے استعمال سے کورونا وائرس سے خود کو پاک کیا جاسکتا ہے۔

ساتھ میں ایک اوربات یاد رہے کہ مائع صابن کی چھوٹی بوتل ساتھ رکھیں اور اس کی مدد سے بار بار ہاتھ دھوتے رہیں۔






Comments are Closed