مودی کا دورۂ بنگلہ دیش۔اوربنگلہ دیشمیں مقیم بھارتیوں سے خطاب

نیویارک (افروایشیاء نیوز مانیٹرنگ ڈیسک+ وائس آف امریکہ)وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے کے آخری دن بنگلہ دیش میں رہنے والے بھارتیوں کے گروپ سے خطاب کیا۔
انھوں نے لینڈ بل معاہدے کو دلوں کو جوڑنے والا معاہدہ بتایا تو بنگلہ دیش کی ترقی پر خوشی بھی اظہار کیا۔
نریندر مودی کی اس دورے کا کیا حاصل رہا، اس پر بی بی سی ہندی سروس نے سابق سیکریٹری خارجہ مچكد دوبے سے بات کی۔
مودی کے اس دورے کے بارے میں مچکند دوبے کا کہنا تھا کہ یہ بلاشبہ ایک اہم دورہ رہا ہے اس دورے میں کچھ ایسے اقدمات کیے گئے ہیں جن کے دور رس اور اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔
بھارت نے بنگلہ دیش کو جو دو ارب ڈالر کے قرض دینے کا اعلان کیا ہے ان کی مدد سے وہاں کے ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا، اور اس سے جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی ایشیا میں بھارت کی پہنچ بہتر ہو جائے گی۔جہاں تک سرحدی تنازعے کا سوال ہے، یہ معاملہ بہت دنوں سے التوا میں تھا۔ بنگلہ دیش نے 1974 میں ہی اسے درست کر لیا تھا۔
بھارت کا کہنا تھا کہ اس میں زمین کسی دوسرے ملک کو دینے کا سوال ہے، اس لیے آئین میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے حل کرنے میں اتنا وقت لگا۔
پرانی حکومتوں کے مقابلے میں اس حکومت نے کون سے نئے قدم اٹھائے ہیں؟
اس بارے میں مچکند دوبے کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں لگتا کہ تعلقات مزید بہتر بنانے کے لیےبہت سمجھداری کا مظاہرہ کیا گیا ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ علامتوں سے پر تھا۔
’اچھی فضا ضرور پیدا ہوئی ہے لیکن اس ماحول سے فائدہ اٹھا کر جو ٹھوس قدم اٹھائے جا سکتے تھے ان پر دھیان نہیں دیا گیا۔ البتہ مجھے امید ہے اگلے چند سالوں میں اس پر توجہ دی جائے گی۔‘
اس دورے کے دوران اقتصادی امور پر 22 معاہدے ہوئے ہیں اور بھارتی تاجروں کے بنگلہ دیش میں بجلی کے منصوبے لگانے پر بھی سمجھوتہ ہوا ہے، ان کا کیا اثر پڑے گا؟
اس بارے میں مچکند دوبے کا کہنا ہے کہ ان میں کچھ نئے پروجیکٹ ہیں اور وہ اہم ہیں۔
’بنگلہ دیش میں توانائی کی کمی دور کرنے کے لیے بھارتی تاجر اگر وہاں بجلی کے منصوبے جلد سے جلد شروع کرتے ہیں جس سے وہاں کے عوام کو فائدہ ہو گا، اور ہمیں بھی اس کا فائدہ ہو گا۔‘
سارک ممالک کے حوالے سے اس دورے کو کس طرح دیکھا جائے، جس میں پاکستان کی ایک طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے؟
اس بارے میں ان کا کہنا تھا: ’میں سمجھتا ہوں یہ حکمت عملی ٹھیک نہیں ہے۔ ہندوستان اور پاکستان جنوبی ایشیا میں دو سب سے بڑے ملک ہیں اور ان دونوں ممالک کے باہمی تعاون اور باہمی تجارت کو ذہن میں رکھے بغیر جنوبی ایشیا میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔‘
سارک کے تحت تعاون بڑھانے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش اور ہندوستان آپس میں مل کر انفراسٹرکچ کے میدان میں کام کر سکیں تو بہتر ہو گا۔
ان تمام علاقوں میں بنیادی ڈھانچوں کی بڑی کمی ہے۔ اس پر آنے والی لاگت کا بڑا حصہ بھارت کو دینا ہو گا اس لیے یہ بہت آسان معاملہ نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کی تعمیر میں سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا اہم کردار رہا ہے لیکن اس دورے میں ان کا کوئی خاص ذکر نہیں ہوا، اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟
اس بارے میں مچکند دوبے کا کہنا ہے: ’میں نے اسے بہت زیادہ اہمیت نہیں دوں گا۔ ہندوستان نے اس وقت بنگلہ دیش کے لیے جو کیا اس پر کافی زور دیا گیا ہے۔ اب کس رہنما نے کیا کیا ہے اس پر زور دینا اتنا اہم نہیں ہے۔
اندرا گاندھی نے بنگلہ دیش کے لیے جو کچھ کیا وہ تاریخ کا موضوع ہے، اسے کوئی بھلا نہیں سکتا، چاہے ان کا نام لیا گیا ہو، یا نہ لیا گیا ہو۔






Comments are Closed