میاں شریف خاندان کی ترقی کا سفر(قسط ۔۔۔۔۔ دوئم)

میاں شریف خاندان کی ترقی کا سفر(قسط ۔۔۔۔۔ دوئم)

تحریر وتحقیق زیڑی گل خٹک

یہ وہ وقت تھا کہ میاں شریف نے پڑھے افراد کو اپنی تیم میں شامل کیا۔ جنھوں نے کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرنا شروع کیا ۔بنکوں سے تعلقات استوار کرنا شروع کیئے اور کاروبار کو ذاتی سرمائے سے چلانے تک محدود رکھنے کی بجائے شہر کے دیگر کاروباری شخصیات کی رقوم بھی کاروبار میں لگانا شروع کر دیں۔اور اسی دوران ایک اچھے کاروباری کی طرح شریف برادران نے شہر میں اثرو رسوخ رکھنے والے افراد جن میں میاں صلاح الدین (یوسف صلاح الدین کے والد)، خواجہ عبدالرحیم (خواجہ طارق رحیم کے والد) اور سابق پنجاب کا باپ گورنر میاں محمد اظہرکے خاندانوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوارکر لیئے تھے۔ اوراپنی ساکھ بنا لی تھی ۔لاہور شہرکے صاحب ثروت خاندان میاں برادرز کی کاروباری شراکت کو کاروبارمیں کامیابی کی ضمانت سمجھنے لگے۔1970 تک، اتفاق فاونڈری کاروبار شریف خانداں اور ان کے کاروباری شراکت داروں و ڈائریکٹرز میں مالی خوشحالی لانے کے لئے کافی حد تک کامیاب ہو چکی تھی.اور اس وقت کے مشرقی پاکستان میں بھی اتفاق فاونڈری قائم ہو چکی تھی۔لیکن ایک اچھے وقت کے بعد اس خاندان کو کڑے امتحانوں سے بھی گزرنا پڑا۔
1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے اتفاق فاونڈری کو پہلہ کاروباری دھچکہ لگا۔اور وہاں لگا سرمایہ صائع ہو گیا۔ اسی دوران ملک میں ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھال لیا۔ بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی تحریک کے دوران فنڈ نے دینے والے پارٹی مخالف تمام صنحتکارخاندانوں کے کاروبارکوئی فرد جرم عائد کئے بغیر جابرانہ طور پرقومی تحویل میں لے لئے۔ اور ایسے تمام خاندان جو صرف پاکستان میں اپنے کاروبار کر رہے تھے ، کو کوئی قانونی حق دیئے بغیرراتوں رات کنگال کر دیا گیا۔۔ فیکٹریوں کی مصنوعات اور خام مال کے سٹاک تک بغیر معاوضہ قومی تحویل میں لیکر صنعتیں پارٹی کارکنوں کے حوالے کردی گئیں۔

اگر کوئی صاحب دل ذرہ سی دیر کو خود کو اس حادثہ کا شکار سمجھ کر سوچے ۔ جن کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ پاکستان مں کاروبار کرکے مقامی لوگوں کو روزگار مہیا کر رہے تھے۔گوکل شپنگ کارپوریشن جس کے اس وقت 42 بحری جہازسمندر میں باربرداری کرتے تھے اور سینکڑوں پاکستانی کارکنوں کواس صنحت سےملازمت مل رہی تھی کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا۔ اور نیشنل شپنگ کارپوریشن کا نیا نام دے دیا گیا۔ آج وہ قومی ادارہ کہاں ہے؟؟ اور اس کے بیڑے میں کتنے جہاز ہیں؟ اس جابرانہ فیصلوں کی وجہ سے ایشیں ٹائیگر اور دوسرے ملکوں کو قرض دینے والے ملک کے ہاتھ میں قرض کا کچکول پکڑا دیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی طرف سے باقی بڑے اداروں کی طرح اتفاق فاؤنڈری کو بھی بغیر کوئی معاوضہ ادا کیئے قومی تحویل میں لیا گیا اور اسے لاہور فاؤنڈری (LEFCO)کا نام دے دیا گیا۔ اس وقت میں،اتفاق فاونڈری کی زمیں، بلڈنگ اور مشینری کی مالیت محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی روپوں میں ساڑھے چار کروڑروپے سے زائد تھی ۔ ان اقدامات سے صنعت کاروں میں بے یقینی اور بےاعتباری کی وہ فضاء قائم ہوئی جس کا مداوا اج تک نہ ہو سکا۔ سرمایہ کار خاندان اپنا بچہ کچھا سرمایہ لیکر دوسرے ممالک کا رخ کرنے لگے۔۔
اس وقت دبئی میں تعیمراتی عمل عروج پر تھا۔ ان حالات میں 1973 ء میں میاں شریف نے دبئی میں قسمت ازمائی کا فیصلہ کیا۔ اور دبئی میں موجود ایک پاکستانی تاجر ظفر اقبال (جس کے دبئی کے حکمران سے اچھے مراسم تھے) کی ضمانت پر بی سی سی آئی بنک سے 60 ملین درہم قرض لے کر “احلی اسٹیل ملز” خریدی۔ لیبر کاسٹ زیادہ ہونے اور اوٹ ڈیٹیڈ مشینری کی وجہ سے کاروبار”ٹاٹا سٹیل” کی جدید مشینری کے ساتھ مسابقت میں کچھ اچھی کارکردگی نہ دکھا پایا۔ بعد ازاں دبئی کے حکمران نے کمال مہربانی سے ان کی فیکٹری کوبیل اوٹ کرکے قرضہ معاف کردیا۔ جس سے اس خاندان کونئی زندگی ملی۔اور ﷲ کی طرف سے شریف خاندان کوملی آزمائش ختم ہونے لگی۔ جو جو کام جس جس تیزی سے بگڑے تھے اسی تیزی سے درست ہونے لگے۔

اسی دوران جنرل ضیاء نے ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کو کم کرنے اور مسلسل خسارہ میں جانے والی یا بند صنعتوں کو چلانے کیلیئے متحدہ عرب امارات اور دوسرے ممالک منتقل ہونے صنعتکاروں کو واپس لانے اور یہ صنعتیں واپس کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی سلسلے مین جنرل ضیاء کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران شریف برادران نے ان سے ملاقات کی۔ کچھ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ الراعی فاونڈیشن کے مشہور صنعتکارمیاں عبدالعزیز (مالک سعودی گولڈ سعودی عریبہ و میرٹ ہوٹل/فیصل ہوٹل اسلام آباد والے) و چیف ایڈیٹر روزنامہ افاق جن کے جنرل ضیاء سے قریبی تعلقات تھے کی وساطت سے یہ ملاقات ممکن ہو سکی تھی۔ جنرل ضیاء نے انھیں پاکستان میں واپسی اورکاروبار کی دعوت دیتے ہوئے ہر قسم کی جائز وقانونی مدد کی پیشکش کی۔ جس پر شریف خاندان متحدہ عرب امارات مین اپنا کارووبار بیچ کرپاکستان واپس آنے کو تیار ہو گیا۔

اس موقع پر میاں محمد اظہر کے والد کا زکر کرنا بے جا نہ ہوگا ۔ جو اس مشکل وقت میں آگے بڑھے اورعارضی طور پربادامی باغ کے علاقہ میں اپنی تین بھٹیاں میاں شریف کو کاروبار کے لیئے مفت عنایت کر دیں۔ یہ غیبی مدد تھی ۔ بالاخر 1978 میں لاہور فاؤنڈری بھی اجڑی حالت میں انھیں واپس مل گئی۔ جسے دوبارہ اتفاق فاونڈری پرائیویٹ لمیٹیڈ کا نام دے دیاگیا۔

اس قسط کے آخرمیں، ایک سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں خدانخواستہ اگر آپ ایسے جبر کے حالات سے گزرتے اور آپ کے پاس ایک معقول رقم بیرون ملک ہوتی ۔ تو کیا آپ دوبارہ وہ رقم ملک میں لانے کا رسک لیتے؟؟۔ جب بیرون ملک اپنی قانونی رقم کسی بنک میں رکھنا کوئی جرم بھی نہ ہو؟۔

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ یہ اتقاق فاوںڈری اور دبئی کی انسوٹمنٹ میاں شریف اور اس کے بھائیوں نے کی ، اس وقت آج کے وزیر اعظم میاں نواز شریف بمشکل جوانی میں قدم رکھ پائے تھے۔ لیکن پی ٹی آئی کی نا عاقبت اندیش قیادت الزامات وزیر اعظم پر لگا رہی ہے۔اور ان سے رسیدں دکھانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ مضموں چار قسطوں پر مشتمل ہے ۔اگلا حصہ انشاء ﷲ کل شائع ہوگا۔ ویب سائٹ www.asianewspaper.co پر موجود اس آرٹیکل پر کمنٹس کریں۔شکریہ)

 






Comments are Closed