پانامالیکس پر ٹی او آرز کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکتا، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط کا جواب دے دیا جب کہ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ٹرمز آف ریفرنس کے حتمی فیصلے تک جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔

 پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے حکومتی خط کا جواب وزارت قانون کو ارسال کردیا گیا۔ چیف جسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ٹرمز آف ریفرنس کے حتمی فیصلے تک  پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا،بادی النظرمیں کمیشن کی کارروائی میں کئی سال لگ سکتے ہیں کیوں کہ حکومتی ٹی او آرز وسیع ہیں جس میں کمپنیوں کی فہرست اور شخصیات کے نام نہیں دیئے گئے۔

چیف جسٹس نے جوابی خط میں واضح کیا ہے کہ انکوائری کمیشن ایکٹ 1956 کا دائرہ کار محدود ہے جب کہ حکومتی خط میں آف شور کمپنیاں رکھنے والے خاندانوں، شخصیات اور کمپنیوں کا ذکر نہیں کیا گیا اس لئے کمیشن کی تشکیل کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔

دوسری جانب وزارت قانون کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے انکوائری کمیشن تشکیل دینے سے انکار نہیں کیا بلکہ حکومت سے چند وضاحتیں مانگی ہیں، امید ہے حکومت کی جانب سے وضاحتیں پیش کئے جانے کے بعد جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حکومت نے 22 اپریل 2016 کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو پاناما لیکس کے معاملے پر 3 رکنی کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ انیس سو چھپن کےتحت تین رکنی کمیشن تشکیل دیکر اس کی سربراہی ترجیحی بنیاد پر چیف جسٹس خود کریں۔ حکومت کی جانب سے خط میں کہا گیا تھا کہ سیاسی اثرو رسوخ کے ذریعے قرضے معاف کرانے والوں، کرپشن، کمیشن اور کک بیک کے ذریعے بیرون ملک فنڈز کی منتقلی سے متعلق امور کی تحقیقات کی جائیں۔  حکومت نے خط کے ساتھ کمیشن کے ٹرمزآف ریفرنس بھی منسلک کئے گئے جس کے مطابق کمیشن کسی بھی فرد، ٹیکس ماہرین، اکاؤنٹنٹس کو طلب کرنے سمیت کسی بھی قسم کے دستاویزات کے حصول کے لئے تمام عدالتوں، سرکاری افسران یا سرکاری دفاترسے ریکارڈ طلب کرنے کا مجازہوگا۔






Comments are Closed