پنجاب میں بچوں کے اغواء کے در پردہ عوامل۔

پورے پاکستان میں بچوں کےاغواء جسے واقعات کی خبروں پر میڈیا میں طاری سکوت کے بعد اچانک ایک بار پھرصوبہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بچوں کے اغوا کی خبریں مل رہی ہیں.

پنجاب میں بہت سے خاندان اب بھی اپنے پیاروں کے لیئے FIR درج کرانے کیلیئے سرگرداں ہیں جنہیں کچھ دن پہلے اغواء کیا گیا ،زیادہ تر لوگ اس مسئلے کو پاکستان سے افغانیوں کی ملک بدری کے ساتھ منسلک کر رہے ہیں. کیونکہ.یہ پہلی دفعہ نہیں ہورہا۔ ماضی میں جب بھی افغانیوں کی ملک بدری کی کوششیں ہوئیں اس دوران بچوں کے اغواء کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا

اب تک پنجاب بھر سے، تقریبا ایک ہزار بچے لاپتہ ہیں جن میں سے سب سے زیادہ تعداد لاہور سے بتائی جاتی ہے . پنجاب پولیس برآمد ہونے والے بیانات کی روشنی میں اس مسئلے کو گھریلو تشدد کا شاخسانہ ہونے کا دعوی کر رہی ہے. جبکہ بعض مغوی بچوں کی تشدد زدہ لاشین بھی ملی ہیں ۔. ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس شہزادہ سلطان کے مطابق، اس سال 681 بچوں کے اغوا کے مقدمات درج کرلئے گئے ہیں، جن میں سے 640 بچوں کو برآمد کرلیا گیا ہے.( اس حساب سے صرف 41 بچے ایسے رہ جاتے ہیں جن کو ابھی تک برآمد کیا جانا باقی ہے۔)

دوسری طرف سپریم کورٹ نے پنجاب بھرمیں بچوں کےاغوا کے واقعات پر ازخودنوٹس لیکر کیس کی سماعت شروع کر دی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی جانب سے بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے. پچھلے چھ ماہ میں صرف لاہور سے 312 بچوں جبکہ پورے پنجاب سے 652 بچوں کواغوا بتایا گیا ہے.

ہر مہذب معاشرے میں بچے ہر صاحب دل کی کمزوری ہوتے ہیں کوئی بھی درد مند دل بچوں پر ظلم کا سن کر برداشت نہیں کرسکتا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض ناکام سیاسی جماعتیں بچوں کے اس مسئلہ پر بھی سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔ تاکہ غلط اعداد و شمار سے لوگوں میں نفرت کی آگ بھڑکا سکیں ۔حکومت کی طرف سے اغواشدہ بچوں کے درست اعداد وشمار حاصل کرنے کے لیئے ویب سائٹ پر معلومات شائع کرنے کا اعلان اگرچہ خوش آئند ہے لیکن جو لوگ بچوں کے نام پر سیاست کرنا چاہتے ہیں ان کو یہ حکومتی اقدام بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ کیونکہ اس طرح سے پھر ان کا جھوٹ طشت از بام ہوتا ہے۔

مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ گورنر امیر محمد خان کی تصویر کے ساتھ ایک خبر سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے کہ ان کے دور میں پورے مغربی پاکستان میں صرف ایک بچہ اغواء ہوا تو انہوں نے انتظامی افسران کے بچے کالا باغ بھجوا دیئے، حالانکہ یہ وہی گورنر امیر محمد خان ہیں جن کے دور میں مغربی پاکستان بھر (جس کے وہ گورنر تھے)سےبچوں کو اغوا کرکے لایا جاتا اور ان بچوں سے خرکاری کرا جنوبی پنجاب میں نہروں کی کھدائی اور گدھوں پر مٹی دھوائی جاتی،
جی ہاں یہ وہی اچھے منتظم گورنر امیر محمد خان ہیں جن کے دور میں ورلڈ بنک کے تعاون سے مغربی پاکستان میں (کاغزی کارووائی میں ) اتنے درخت لگا دیئے گئے کہ انسانوں کیلیئے قدم رکھنے کی جگہ نہیں رہی تھی۔ جی ہاں یہ وہی اچھے منتظم گورنر امیر محمد خان ہیں جنکو انکوائری کے بعد محکمہ جنگلات کے افسران نے بتایا جناب درخت تو لگا دیئے تھے لیکن برا ہو ان بکریوں کا جو سب درخت چٹ کر گئیں۔ تو موصوف نے ایک فوری حکم کے ذریعے پورے مغربی پاکستان میں بکریوں پر پابندی لگا دی تھی۔ ہزاروں بکروال و دیہاتی کاشتکاران کے اس احمقانہ وظالمانہ فیصلے کی وجہ سے اونے پونے داموں اپنی بکریان بیچنے پر مجبور ہو کر قلاش ہوئے

زیڑی گل خٹک منیجنگ ایڈیٹرافرو ایشیاء نیوز






Comments are Closed