چین امریکی سفیر کے بھارت میں متنازع سرحدی علاقے کے دورے پر شدید برہم

بیجنگ: 

چین نے بھارت کی جانب سے امریکی سفیر کو متنازع علاقے کا دورہ کرائے جانے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان متنازع مسائل پر تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید سنگین ہوں گے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق بھارت میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ ورما نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اروناچل پردیش کے دورہ کے موقع پر لی گئی ایک تصویر پوسٹ کی اور کہا کہ بھارتی حکام کی جانب سے اروناچل پردیش کا دورہ کرانے پر مشکور ہوں جب کہ وہ علاقہ جادوئی خاصیت کا حامل ہے جس پر چین نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

View image on Twitter

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی سفیر کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ رچرڈ ورما کا اقدام چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے جب کہ دونوں ممالک قیام امن اور سرحدی تنازع کے حل کے لئے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کر رہے ہیں اور کسی تیسرے فریق کی مداخلت سے دونوں ممالک کے درمیان معاملات بگڑنے کا خدشہ ہے۔

چینی وزارت خارجہ  نے امریکا پر زور دیا کہ وہ چین اور بھارت کے درمیان متنازع معاملات میں مداخلت سے باز رہے کیوں کہ یہی خطے میں امن کے لئے ضروری ہے جب کہ چین اور بھارت مذاکرات کے ذریعے متنازع معاملات کا مناسب حل تلاش کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین اروناچل پریش کے 35 ہزار اسکوائر کلومیٹر رقبے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جسے وہ جنوبی تبت کا نام دیتا ہے جب کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ چین نے مغربی علاقے میں بھارت کے 38 ہزاراسکوائرکلومیٹر رقبے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔






Comments are Closed