چین میں ’ریاست کے خلاف جرائم‘ کی شرح میں دگنا اضافہ

بیجنگ: چین میں مسلم اکثریت والے خطے سنکیانگ میں کریک ڈاؤن اور ملکی سطح پر سول سوسائٹی کیخلاف کارروائیوں کے نتیجے میں ’ریاست کیخلاف جرائم‘ کی شرح میں پچھلے سال دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

چین میں عدالتوں نے گزشتہ برس قومی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں1400سے زیادہ افراد کو سزائیں سنائیں۔ 2014ء میں اسی طرز کے جرائم کی کْل تعداد 712 تھی۔ اس بات کا انکشاف چینی سپریم پیپلزکورٹ کے سربراہ جسٹس زو شیانگ نے اتوار کو نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کیا۔ چین میں2015ء میں قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین نافذ کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی عدالتوں نے 2015ء میں 1419 افراد کو قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائیں دیں۔ 2014ء میں ایسے ’جرائم‘ میں سزا پانے والوں کی تعداد 712بتائی گئی تھی۔

حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ چینی حکومت ان قوانین کی مدد سے صوبے سنکیانگ میں علیحدگی پسند تحریک کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے مذہبی اقلیتوں یا حکومت کے ناقدین کیخلاف استعمال کو روکنے کیلیے کوئی ’سیف گارڈ‘ موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2015ء میں چینی عدالتوں نے رشوت ستانی کے 34ہزار مقدمات کو نمٹایا۔ ان کیسو ںمیں49ہزار افراد ملوث تھے۔

رپورٹ کے مطابق عام معافی کے ایک معاہدے کے تحت گذشتہ سال مجموعی طور پر31527 قیدی رہا کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال چینی عدالتوں نے12لاکھ 32ہزار افرادکو11لاکھ مقدمات میں سزائیں سنائیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ قومی خودمختاری اور سمندری حقوق کے تحفظ کی تازہ ترین کوشش کے سلسلے میں بین الاقوامی میری ٹائم جوڈیشل سینٹر قائم کیا جائے گا۔ چیف جسٹس کے مطابق چینی عدالتوں نے گذشتہ سال قریباً 16000میری ٹائم کیسز نمٹائے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔






Comments are Closed